11 مئی 2015 - 04:49
ملائیشیاء : سعودی عرب کے دعوے کی سختی سے تردید

ملائیشیاء نے سعودی عرب کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ یمن کے خلاف جارحیت میں شمولیت کے لئے ملائشیاء کا پہلا فوجی دستہ ریاض پہنچ گیا ہے -

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ملائیشیاء نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ ملائیشیاء کا فوجی دستہ، یمن کے خلاف جارحیت میں شمولیت کے لئے نہیں بلکہ غیر فوجیوں کی مدد سے متعلق اس علاقے کے لئے روانہ کیا گیا ہے- ملائیشیاء کے وزیر دفاع ہشام الدین حسین نے اپنے ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ ملائیشیاء کا فوجی دستہ، یمن کے ان شہریوں کی مدد کے لئے گیا ہے جو جنگ سے فرار ہونے کی بناء پر بے گھر ہوئے ہیں ملائیشیاء کے وزیر دفاع نے یہ بھی لکھا ہے کہ یمن میں ملائیشیاء کے طلباء بھی موجود ہیں جن کی مدد کرنا ملائیشیاء کا فرض بنتا ہے.واضح رہے کہ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی واس نے اتوار کے روز اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ یمن پر جارحیت کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لئے ملائیشیاء کا پہلا فوجی دستہ سعودی عرب پہنچ گیا ہے اور ملائیشیاء کے یہ فوجی، سعودی عرب کی فضائیہ کے ایک اڈے میں موجود ہیں- العربیہ نیوز چینل نے بھی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ ملائیشیاء کی فضائیہ کی ایک ٹیم یمن کے خلاف حملوں میں شرکت کے لئے سعودی عرب پہنچ گئی ہے جبکہ اس قسم کی رپورٹیں، ملائیشیاء کے عوام اور سوشل میڈیا پر ان کی جانب سے ردعمل کے اظہار کا باعث بنی ہیں- ملائیشیاء کے عوام نے اس سلسلے میں اپنی ناراضگی اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ وہ یمن کے خلاف غیر مساوی جنگ میں ملائیشیاء کی فوج کی شمولیت کے خلاف ہیں اور حکومت کو چاہیئے کہ ملائیشیاء کے فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلائے- اس سے قبل ملائیشیاء کے عوام نے کوالالامپور میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں یمن کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کےحملوں کی مذمت کی اور عام شہریوں پر سعودی اتحاد کے حملوں کو دہشتگردی  قرار دیا.

.......

/169